اسراف

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - فضول خرچی، بے اندازہ اور بے کار خرچ۔  اسراف کے شیدائی شیطان کے ہیں بھائی اللہ سے خود ان کی تصدیق کرا دیں گے      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علی خاں، ١٩٩ ) ٢ - [ تصوف ]  طالب کو اس قدر فیض دینا جو سنبھالے نہ سنبھل سکے۔ (مصباح التعرف لارباب التصوف، 35)

اشتقاق

عربی زبان سے ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر