اسرافیل
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - ایک فرشتے کا نام جو اسلامی روایت میں اس امر پر مامور ہے کہ روز قیامت دو بار صور پھونکے۔ (پہلے صور کی ہیبت ناک آواز سے کل مخلوق مر جائے گی اور دوسرے صور کی آواز سے تمام لوگ زندہ ہو جائیں گے)۔ بانگ اسرافیل ان کو زندہ کر سکتی نہیں روح سے تھا زندگی میں بھی تہی جن کا جسد ( ١٩٣٨ء، ارمغان حجاز، ٢٣٦ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مجرد ہے۔ عربی میں عبرانی زبان کے لفظ 'سرافیم' سے ماخوذ ہے۔ اردو میں من و عن داخل ہوا۔ بطور اسم علم مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٠٠ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر