اسفل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - نیچا، بہت نیچا، مقابلۃً نیچا، سب سے نیچا، اعلیٰ کی ضد۔  صعود میں ہوئی عرش بریں سے بھی اعلٰی ہبود میں ہوئی گا و زمیں سے بھی اسفل      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ظفر علیخاں، ١٤ ) ٢ - [ مجازا ]  حقیر، پست، زبوں؛ دوسرے سے کم تر۔  وہاں جو قوم سرافراز ہے، یہاں اسفل وہاں جو لوگ سلاطین ہیں، یہاں خدام      ( ١٩٥٠ء، سموم و صبا، ٢١٦ ) ٣ - مقعد، پاخانے کا مقام۔ "اس تاریخ کو ایک اور بھرپور انیما اسفل کو دھونے ملایم کرنے کے لیے۔"      ( ١٩٥٩ء، وہمی، ١٦ ) ٤ - [ جغرافیہ ]  نشیبی، جو ملحقہ علاقے سے پستی میں واقع ہو۔ "عمرو نے - نے فقط مصر اسفل پر قبضہ کیا۔"      ( ١٨٩٧ء، تمدن عرب، ٢٠٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل ہے۔ اردو میں ١٦٦٣ء "شرح تمہیدات ہمدانی (ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - مقعد، پاخانے کا مقام۔ "اس تاریخ کو ایک اور بھرپور انیما اسفل کو دھونے ملایم کرنے کے لیے۔"      ( ١٩٥٩ء، وہمی، ١٦ ) ٤ - [ جغرافیہ ]  نشیبی، جو ملحقہ علاقے سے پستی میں واقع ہو۔ "عمرو نے - نے فقط مصر اسفل پر قبضہ کیا۔"      ( ١٨٩٧ء، تمدن عرب، ٢٠٧ )

اصل لفظ: سفل