اسلحہ
قسم کلام: اسم آلہ ( مذکر - واحد، جمع )
معنی
١ - جنگ کے ہتھیار (تلوار، بندوق) وغیرہ، وہ آلات جو سپاہی اپنے جسم پر سجاتا ہے، حملے اور دفاع کا ساز و سامان جو جنگ کے موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ اسلحہ سامنے آتے ہی ہوا جوش دغا پہنے دستانے تو دل اور بھی دو ہاتھ ہاتھ بڑھا ( ١٩٤٢ء، خمسۂ متحیرہ، آرزو، ١٩:٥ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ 'سِلاح' سے جمع ہے۔ اردو میں اکثر بطور واحد استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٢ء کو "طلسم شایاں" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: سلح