اسوج

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - ہندی سال کا ساتواں مہینہ جو تقریباً نصف ستمبر سے نصف اکتوبر تک ہوتا ہے، کنوار۔ 'اسوج کی گھٹا، وہ اوج کی گھٹا، رات دن برستی۔"      ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ٨٦ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'اَشْوَیُج' سے ماخوذ ہے۔ اسم جامد ہے۔ اردو میں ١٨٤٦ء کو 'آثار انصادید" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہندی سال کا ساتواں مہینہ جو تقریباً نصف ستمبر سے نصف اکتوبر تک ہوتا ہے، کنوار۔ 'اسوج کی گھٹا، وہ اوج کی گھٹا، رات دن برستی۔"      ( ١٩٠١ء، راقم، عقد ثریا، ٨٦ )

جنس: مذکر