اسود

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - سنگ اسود جو خانہ کعبہ میں کسی قدر بلندی نصب ہے اور طواف کے وقت حاجی اسے بوسہ دیتے ہیں۔  اسود، سواد مرد مک حورعیں ہوا پتھر سے بوسہ گاہ رسول امیں ہوا      ( ١٩١٢ء، شمیم، ریاض شمیم، ٣٦:٥ ) ١ - سیاہ، کالا۔  تھاسیہ روجو عدو اس کوکیا خون میں تر کیا تماشا ہے کہ اسود کو بنایا احمد ٢ - سیاہ رنگ شخص، حبشی۔  بتاتی ابیض و اصفر کو ہے آداب دنیا کے سکھاتی اسود و احمر کو ہے ارکان دیں مسجد      ( ١٩٣٦ء، چمنستان، ظفر علی خاں، ١٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے اسم تفضیل ہے۔ اردو میں ١٧٠٧ء کو ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: سود
جنس: مذکر