اسیر
معنی
١ - قیدی، محبوس، گرفتار 'زلف خواجہ کا اسیر، دام اقبال میں کیونکر آ سکتا ہے۔" ( ١٩١٣ء، مکاتیب اقبال، ٣٢٧:٢ ) ٢ - [ مجازا ] مبتلا۔ دل تھا کبھی اسیر فریب وفائے یار ان کون ہے نگاہ کرم کا امیدوار ( ١٩١٢ء، مطلع انوار، ٢١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب سے اسم فاعل ہے اردو میں ١٥٠٣ء کو 'نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قیدی، محبوس، گرفتار 'زلف خواجہ کا اسیر، دام اقبال میں کیونکر آ سکتا ہے۔" ( ١٩١٣ء، مکاتیب اقبال، ٣٢٧:٢ )