اسیری
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - قید، گرفتاری، محبوس ہونا۔ رہائ دام گیسو سے نہ پائ ہم نے مرکر بھی قیامت تک رہا طوق اسیری اپنی گردن میں ( ١٩٣٦ء، ناز (میر علی نواز خاں ٹالپر)، کلیات ناز، ١١٦ )
اشتقاق
عربی زبان کے لفظ 'اسیر' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت استعمال کی گئ ہے۔ اردو میں ١٨١٠ء کو میرے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: اسر
جنس: مؤنث