اشارت
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - اشارہ، خصوصاً معشوقانہ ناز و انداز کے چشم و ابرو کی محبت آمیز حرکت، غمزہ، کرشمہ۔ بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا رجوع کریں: ( ١٨٦٩ء، غالب، دیوان، ١٥٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال المعتل اجوف واوی سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔
اصل لفظ: شور
جنس: مؤنث