اشتعال

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - آگ یا شعلہ بھڑکنے کی کیفیت، شعلہ، شعلے اٹھنا۔ 'چراغ کی بتی کا اشتعال اوکسیجن سے قائم رہتا ہے یا ہائیڈروجن سے۔"      ( ١٩١٢ء، حالی، مقالات، ١٦٩:١ ) ٢ - گرمی یا کسی جذبے یا حالت کی شدت یا زیادتی، شعلگی۔ 'ان کے جذبات کو اور اشتعال ہوا۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، واردات، ٨٦ ) ٣ - [ مجازا ]  برہمی، غصہ۔  تشدد خود کریں الزام اس کا تھوپ دیں ہم پر تعجب کیا گر اس منطق پہ ہم کو اشتعال آئے      ( ١٩٣١ء، بہارستان، محمد علی خاں، ١٧٥ ) ٤ - جوش، ہیجان۔ 'فلسفہ اور حکمت سے قوت خیالیہ میں ایک - اشتعال ہوتا ہے۔"    ( ١٩٠٥ء، سائنس و کلام، ٢ ) ٥ - کسی جذبے کو ابھارنے، بھڑکانے یا جوش دلانے کا عمل۔ 'علی گڑھ میں پولیس کے اشتعال سے فساد ہوا۔"    ( ١٩٢٢ء، قول فیصل، دیباچہ، ٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب 'افتعال' سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨١٠ء کو 'کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آگ یا شعلہ بھڑکنے کی کیفیت، شعلہ، شعلے اٹھنا۔ 'چراغ کی بتی کا اشتعال اوکسیجن سے قائم رہتا ہے یا ہائیڈروجن سے۔"      ( ١٩١٢ء، حالی، مقالات، ١٦٩:١ ) ٢ - گرمی یا کسی جذبے یا حالت کی شدت یا زیادتی، شعلگی۔ 'ان کے جذبات کو اور اشتعال ہوا۔"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، واردات، ٨٦ ) ٤ - جوش، ہیجان۔ 'فلسفہ اور حکمت سے قوت خیالیہ میں ایک - اشتعال ہوتا ہے۔"    ( ١٩٠٥ء، سائنس و کلام، ٢ ) ٥ - کسی جذبے کو ابھارنے، بھڑکانے یا جوش دلانے کا عمل۔ 'علی گڑھ میں پولیس کے اشتعال سے فساد ہوا۔"    ( ١٩٢٢ء، قول فیصل، دیباچہ، ٢٧ )

اصل لفظ: شعل
جنس: مذکر