اشتہا
معنی
١ - کھانے پینے کی خواہش؛ بھوک، گرسنگی۔ 'خوف کا احساس ہو تو اشتہا نہیں پیدا ہو سکتی۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٣:٣ ) ٢ - خواہش۔ 'کسی شخص کو کسی ایسی اشتہا یا احتیاج میں جو حیوانی زندگی کے عمل کی بدولت ہوتی ہے - خالص فطری واقعے کے علاوہ تو کسی اور شے کے ملنے کا دعویٰ نہ ہو گا۔" ( ١٩٤٧ء، مقدمۂ اخلاقیات، ١٢٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال المعتل مہموز اللام سے مصدر 'اِشْتِہاء' ہے۔ اردو میں آخری 'ء' کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے حذف کر دیا گیا ہے۔ ١٦٠٩ء کو اردو میں سب سے پہلے 'قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کھانے پینے کی خواہش؛ بھوک، گرسنگی۔ 'خوف کا احساس ہو تو اشتہا نہیں پیدا ہو سکتی۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٣:٣ ) ٢ - خواہش۔ 'کسی شخص کو کسی ایسی اشتہا یا احتیاج میں جو حیوانی زندگی کے عمل کی بدولت ہوتی ہے - خالص فطری واقعے کے علاوہ تو کسی اور شے کے ملنے کا دعویٰ نہ ہو گا۔" ( ١٩٤٧ء، مقدمۂ اخلاقیات، ١٢٧ )