اشراقی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - اشراق کی طرف منسوب۔      'اس کے لیے ضروری نہیں کہ پیغمبر میں کوئی خاص قدسی یا اشراقی قوت ہو۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٠٢ء، علم الکلام، ٧٥:١ ) ١ - اِشراقیہ کا فرد، اشراقی طریقۂ تعلیم کا ماننے والا۔ 'مولانا تصوف کے متعلق کہتے تھے کہ یہ جوگیوں اور اشراقیوں کی نقل ہے اسلام سے اس کو تعلق نہیں ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملان رام پور، ١٨٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ عربی کے لفظ 'اِشْراق' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٨٥٤ء کو ذوق کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اشراق کی طرف منسوب۔      'اس کے لیے ضروری نہیں کہ پیغمبر میں کوئی خاص قدسی یا اشراقی قوت ہو۔"     رجوع کریں:   ( ١٩٠٢ء، علم الکلام، ٧٥:١ ) ١ - اِشراقیہ کا فرد، اشراقی طریقۂ تعلیم کا ماننے والا۔ 'مولانا تصوف کے متعلق کہتے تھے کہ یہ جوگیوں اور اشراقیوں کی نقل ہے اسلام سے اس کو تعلق نہیں ہے۔"      ( ١٩٢٩ء، تذکرۂ کاملان رام پور، ١٨٢ )

اصل لفظ: شرق