اشنان

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - [ ہندومت ]  غسل، نہانا۔ 'پھر اشنان کیا اور راماین کا پاٹھ کرنے لگے۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٦٩:١ ) ٢ - نہانے کی مذہبی رسم جو موسم سرما میں ہندو گنگا جمنا وغیرہ مقدس دریاؤں پر جا کر ادا کرتے ہیں۔  چلے ہندو اشنان کو سوئے گنگ وہ پہنچے کلیسا میں اہل فرنگ      ( ١٩٣٢ء، بے نظیر، کلام بے نظیر، ٢٩٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے مصدر 'سنان' بمعنی 'نہانا' کے ہے۔ اردو میں تغیر کے ساتھ 'اَشْنان' مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے عطائی کے ہاں بحوالہ رسالہ "سب رس" اپریل ١٩٦٢ء مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ہندومت ]  غسل، نہانا۔ 'پھر اشنان کیا اور راماین کا پاٹھ کرنے لگے۔"      ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٦٩:١ )

جنس: مذکر