اضمار
معنی
١ - ضمیر کا استعمال کرنا، کلام میں ضمیر لانا؛ جیسے : اضمار قبل الذکر۔ ٢ - مضمر ہونا، ایک بات میں دوسری بات مخفی ہونا۔ "حافظ کے کلام میں اضمار کی صورت بکثرت پائی جاتی ہے۔" ( ١٩٧٤ء، مسائل اقبال، ٨٤ ) ٣ - [ عروض ] ابتدائے رکن میں سبب ثقیل کا دوسرا حرف ساکن کر دینا جیسے مُتَفاعِلن سے مُتْفاعلن (بروزن مُسْتَفْعِلُن) "اگر اس کے مقابلے پر متفاعلن کا حرف دوم متحرک بعمل اضمار ساکن کرتے تو وہ مستفعلن کے ہم وزن ہو جاتا۔" ( ١٨٧١ء، قواعد العروض، ٣٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے باب 'افعال' سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٨٧١ء کو "قواعد العروض" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - مضمر ہونا، ایک بات میں دوسری بات مخفی ہونا۔ "حافظ کے کلام میں اضمار کی صورت بکثرت پائی جاتی ہے۔" ( ١٩٧٤ء، مسائل اقبال، ٨٤ ) ٣ - [ عروض ] ابتدائے رکن میں سبب ثقیل کا دوسرا حرف ساکن کر دینا جیسے مُتَفاعِلن سے مُتْفاعلن (بروزن مُسْتَفْعِلُن) "اگر اس کے مقابلے پر متفاعلن کا حرف دوم متحرک بعمل اضمار ساکن کرتے تو وہ مستفعلن کے ہم وزن ہو جاتا۔" ( ١٨٧١ء، قواعد العروض، ٣٧ )