اعتنا
قسم کلام: اسم مجرد ( مذکر، مؤنث - واحد )
معنی
١ - (کسی شخص یا بات کی) پروا، توجہ۔ "ادب اور فن بلاغت کے ساتھ زیادہ اعتنا کیا گیا۔" ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٤١٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال مہموزاللام سے مصدر 'اعتناء' ہے۔ آخر پر 'ء' کی آواز نہ ہونے کی وجہ سے اردو میں 'اعتنا' مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء کو "بہار دانش" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - (کسی شخص یا بات کی) پروا، توجہ۔ "ادب اور فن بلاغت کے ساتھ زیادہ اعتنا کیا گیا۔" ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٤١٤ )
اصل لفظ: عنی