اعراب
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - حرکات، زیر و زبر پیش جزم اور تشدید، ماترائیں۔ "عرب کے مختلف قبائل میں الفاظ، مخارج حروف اعراب - میں اختلاف تھا۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ١٧:١ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں ١٦١١ء کو قلی قطب شاہ کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - حرکات، زیر و زبر پیش جزم اور تشدید، ماترائیں۔ "عرب کے مختلف قبائل میں الفاظ، مخارج حروف اعراب - میں اختلاف تھا۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ١٧:١ )
اصل لفظ: عرب
جنس: مذکر