اعزاز

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عزت، وقار، منزلت، مرتبہ۔ "شاید وکیل میرے خاندانی اعزاز سے واقف نہیں۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٤:٤٠ ) ٢ - امتیازی حیثیت یا صلہ و انعام جو حکومت وغیرہ کی طرف سے ملے، خطاب، سند وغیرہ۔ "میں آپ کو اس اعزاز کی خود اطلاع دیتا۔"      ( ١٩٢٢ء، مکاتیب اقبال، ٢٠٦:١ ) ٣ - (کسی امتیاز کی بنا پر) تعظیم و تکریم، عزت دیے جانے کا عمل۔ "اس کے اعزاز میں شب کو یہاں محفل نشاط قائم ہوتی ہے۔"      ( ١٩٢٥ء، بعت چین، ٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال ازمضاعف سے مصدر ہے اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔اردو میں سب سے پہلے ١٨٠١ء کو "داستانِ امیر حمزہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عزت، وقار، منزلت، مرتبہ۔ "شاید وکیل میرے خاندانی اعزاز سے واقف نہیں۔"      ( ١٩٢٤ء، اودھ پنچ، لکھنو، ٩، ٤:٤٠ ) ٢ - امتیازی حیثیت یا صلہ و انعام جو حکومت وغیرہ کی طرف سے ملے، خطاب، سند وغیرہ۔ "میں آپ کو اس اعزاز کی خود اطلاع دیتا۔"      ( ١٩٢٢ء، مکاتیب اقبال، ٢٠٦:١ ) ٣ - (کسی امتیاز کی بنا پر) تعظیم و تکریم، عزت دیے جانے کا عمل۔ "اس کے اعزاز میں شب کو یہاں محفل نشاط قائم ہوتی ہے۔"      ( ١٩٢٥ء، بعت چین، ٩ )

اصل لفظ: عزز
جنس: مذکر