اغلب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - زیادہ غالب، بہت زیادہ غالب، قریب قریب یقینی۔ "اگر آپ یہاں آئیں اور ان سے ملیں تو اغلب ہے کہ کوئی معقول خدمت مل جائے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٣٠ ) ٢ - مقابلتاً غالب، زیادہ تر۔ "جو اسباب انسان کے افعال کے محرک ہوا کرتے ہیں . اغلب ان میں سے خوف، طمع، گرسنگی اور عشق ہیں۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٤١٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل 'غالب' کی تفضیل 'اغلب' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٧٤٦ء کو "قصۂ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زیادہ غالب، بہت زیادہ غالب، قریب قریب یقینی۔ "اگر آپ یہاں آئیں اور ان سے ملیں تو اغلب ہے کہ کوئی معقول خدمت مل جائے۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ٣٠ ) ٢ - مقابلتاً غالب، زیادہ تر۔ "جو اسباب انسان کے افعال کے محرک ہوا کرتے ہیں . اغلب ان میں سے خوف، طمع، گرسنگی اور عشق ہیں۔"      ( ١٩١٣ء، تمدن ہند، ٤١٤ )

اصل لفظ: غلب