اغماز

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کج ادائی، کج خلقی، نخرہ، غرور، کبر کا حقارت آمیز انداز۔ "لونڈی بڑے اغماز سے بولی۔"      ( ١٩٢٨ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٣، ١٠:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٣٩ء کو "کلیات سے سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کج ادائی، کج خلقی، نخرہ، غرور، کبر کا حقارت آمیز انداز۔ "لونڈی بڑے اغماز سے بولی۔"      ( ١٩٢٨ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٣، ١٠:١ )

اصل لفظ: غمز
جنس: مذکر