افتاد

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ناگہانی آفت، سانحہ۔ "بھلی چنگی لڑکی ہاتھ سے جاتی رہی سنجیدہ کے واسطے یہ افتاد اچھا سبق ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٧ ) ٢ - طبیعت کا رجحان یا جھکاؤ، طبعی خاصہ، فطرت۔ "رشتے میں ماں ضرور ہوں مگر افتاد سے مجبور ہوں کوئی میرے بس کا نہیں۔"      ( ١٨٧٧ء، توبتہ النصوح، ٦٦ ) ٣ - ڈھنگ، طور۔ "اُس نے اپنی بنگالے کی مینا کچھ ایسے ڈھنگ سے اٹھائی . کہ خدا ساری دنیا کی بیٹیوں کو ایسی افتاد نصیب کرے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٤٣ ) ٤ - موقع، محل، وقوع۔ "افتاد اس کی جنگی اعتبارات سے ایسی ہے کہ غنیم کو اس ملک میں داخل ہونا دشوار . ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ١١٢:١ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'افتادن' کا حاصل مصدر 'افتاد' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٧٤ء کو "انیس، مراثی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناگہانی آفت، سانحہ۔ "بھلی چنگی لڑکی ہاتھ سے جاتی رہی سنجیدہ کے واسطے یہ افتاد اچھا سبق ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٧ ) ٢ - طبیعت کا رجحان یا جھکاؤ، طبعی خاصہ، فطرت۔ "رشتے میں ماں ضرور ہوں مگر افتاد سے مجبور ہوں کوئی میرے بس کا نہیں۔"      ( ١٨٧٧ء، توبتہ النصوح، ٦٦ ) ٣ - ڈھنگ، طور۔ "اُس نے اپنی بنگالے کی مینا کچھ ایسے ڈھنگ سے اٹھائی . کہ خدا ساری دنیا کی بیٹیوں کو ایسی افتاد نصیب کرے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٤٣ ) ٤ - موقع، محل، وقوع۔ "افتاد اس کی جنگی اعتبارات سے ایسی ہے کہ غنیم کو اس ملک میں داخل ہونا دشوار . ہے۔"      ( ١٨٩٧ء، کاشف الحقائق، ١١٢:١ )

اصل لفظ: افتادن
جنس: مؤنث