افزا
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - ترکیب میں جزم دوم کے طور پر مستعمل، مترادف بڑھانے والا، اضافہ کرنے یا بالیدگی پیدا کرنے والا۔ کیا اس نگاہ جو حوصلہ افزا کو دیں جواب گم کر دیا جسے وہ تمنا کہاں سے لائیں ( ١٩٥٨ء، تارپیراہن، ٢٥٢ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'افزودن' سے فعل امر 'افزا' بنا۔ اردو میں مرکبات میں جزو دوم کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور بطور صفت مستعمل ہے۔ تحریراً ١٨١٨ء کو "کلیات انشا" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: افزودن