افسانویت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - افسانے کا سا انداز بیاں، افسانوی رنگ، رومانی تاثرات۔ "میر اثر کی مثنوی خواب و خیال زبان کی صفائی سلاست اور افسانویت میں میر کی مثنویوں سے بہتر ہے۔"      ( ١٩٣٣ء، نقد الادب، ١٦٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'افسانہ' کی 'ہ' حذف کر کے 'و' میں بدل کر 'ی' بطور لاحقۂ نسبت اور 'ت' بطور لاحقۂ کیفیت لگا کر 'افسانویت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور تحریراً ١٩٣٣ء کو "نقد الادب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - افسانے کا سا انداز بیاں، افسانوی رنگ، رومانی تاثرات۔ "میر اثر کی مثنوی خواب و خیال زبان کی صفائی سلاست اور افسانویت میں میر کی مثنویوں سے بہتر ہے۔"      ( ١٩٣٣ء، نقد الادب، ١٦٨ )

اصل لفظ: اَفْساَنوی
جنس: مؤنث