افسردہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بجھا ہوا، ٹھنڈا (شعلہ یا ایندھن وغیرہ)۔  شعلے پیدا کر دیے خاکستر افسردہ میں زندگی کی لہر دوڑا دی حیات مردہ میں    ( ١٩١٣ء، شکریۂ یورپ، ٧ ) ٢ - [ مجازا ] سرد، دھیما، فرو۔ "برہان الملک کا ہنگامہ افسردہ ہو گیا۔"    ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢٧٣:٥ ) ٣ - پژمردہ، اداس، نڈھال، بجھا بجھا سا، ملول (طبیعت، دل وغیرہ)۔ "آج طبیعت کچھ افسردہ ہے مستعدی سے کام نہ ہو سکا۔"      ( ١٩٢٤ء، روز نامچۂ حسن نظامی، ١٨٩ )

اشتقاق

فارسی زبان مصدر 'افسردن' سے صیغہ حالیہ تمام 'افسردہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ] سرد، دھیما، فرو۔ "برہان الملک کا ہنگامہ افسردہ ہو گیا۔"    ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٢٧٣:٥ ) ٣ - پژمردہ، اداس، نڈھال، بجھا بجھا سا، ملول (طبیعت، دل وغیرہ)۔ "آج طبیعت کچھ افسردہ ہے مستعدی سے کام نہ ہو سکا۔"      ( ١٩٢٤ء، روز نامچۂ حسن نظامی، ١٨٩ )

اصل لفظ: افسردن