افسوس
معنی
١ - غم، رنج، صدمہ۔ اپنی محکومیت پر، افسوس بے جا ہے جب، تو کیوں? کر افسوس ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٢٠٣ ) ٢ - (ناکافی یا محرومی وغیرہ پر) تاسف، حسرت یا پچتاوا۔ "چند روزہ مہمان پر اتنا بھروسا نہ کر کہ کبھی افسوس کرنا پڑے۔" ( ١٩١٠ء، گرداب حیات، ٤٥ ) ٣ - [ قدیم ] دریغ، تکلف (عموماً 'بے' نافیہ کے ساتھ)۔ "خوان نعمات بے افسوس کا اس کے ہر جگہ پر تیار ہے۔" ( ١٨٤٤ء، گلستان (ترجمہ)، حسن علی خان، ١ ) ١ - (کسی صدمے یا رنج یا تحسر سے یکایک متاثر ہونے کی حالت میں) حیف، ہائے، دریغا وغیرہ۔ اک دوپہر میں سارے عزیزوں سے چھٹ گئے افسوس اس دریار میں ہم آکے لٹ گئے ( ١٩١٢ء، شمیم، مرثیہ (قلمی نسخہ)، ١٩ ) ٢ - (ملامت کے موقع پر عموماً حسرت یا ہمدردی کے ساتھ) والے ہو، اس بات یا حالت پر نفرین ہے۔ بے علم بھی ہم لوگ ہیں غفلت بھی ہے طاری افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں ( ١٩٢١ء، اکبر الہ آبادی، کلیات، ٣٥٣:١ ) ٣ - ندامت اور شرمساری کے موقع پر۔ کیوں ترا مبتلا کیا افسوس کیا کہیں دل نے کیا کیا افسوس ( ١٨٢٤ء، مصحفی: انتخاب رام پور، ١٠٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - (ناکافی یا محرومی وغیرہ پر) تاسف، حسرت یا پچتاوا۔ "چند روزہ مہمان پر اتنا بھروسا نہ کر کہ کبھی افسوس کرنا پڑے۔" ( ١٩١٠ء، گرداب حیات، ٤٥ ) ٣ - [ قدیم ] دریغ، تکلف (عموماً 'بے' نافیہ کے ساتھ)۔ "خوان نعمات بے افسوس کا اس کے ہر جگہ پر تیار ہے۔" ( ١٨٤٤ء، گلستان (ترجمہ)، حسن علی خان، ١ )