افلاکی
قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )
معنی
١ - افلاک سے منسوب، آسمانوں یا عالم بالا کے رہنے والے۔ تعلق ہائے افلاکی سے آزاد اسیر دام و گیسوے دو تادل ( ١٩١٩ء، کیفی، کیف سخن، ٥٦ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'افلاک' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقہ نسبتی لگانے سے 'افلاکی' بنا۔ اردو زبان میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: اَفْلاک