افواہ

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - غیر مستند یا اڑائی ہوئی خبر، عام چرچا۔  ہو جن افواہوں سے دو ہمسایہ قوموں میں فساد بے تکلف آپ انہیں اخبار میں دیتے ہیں چھاپ      ( ١٩٣٨ء، چمنستان، ظفر علی خاں، ١٩٠ ) ١ - دہن، منھ، زبانیں (انسانوں کی)۔ "تفصیلی حالات جو کتابوں میں درج ہوئے اور صرف افواہ خلالق پر جاری ہوں کسی طرح اس ترتیب کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔"      ( ١٨٨١ء، مقالات حالی، ١٤٨:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'فَوَہٌ' کی جمع 'افواہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨١٧ء کو "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دہن، منھ، زبانیں (انسانوں کی)۔ "تفصیلی حالات جو کتابوں میں درج ہوئے اور صرف افواہ خلالق پر جاری ہوں کسی طرح اس ترتیب کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔"      ( ١٨٨١ء، مقالات حالی، ١٤٨:٢ )

اصل لفظ: فوہ