اقبالی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - معترف، اقراری۔  گیا ہے دل وہی درد نگاہ کیا ہوا اگر چور اقبالی نہیں      ( ١٩٠٥ء، یادگار داغ، ٣٩ ) ٢ - اقرار و اعتراف پر مشتمل (تقریر یا تحریر)۔ "اقبالی اظہار قلم بند ہونے کے بعد۔"      ( ١٩٢٤ء، قوانین پولیس حیدراآباد، ٢٥٣ ) ٣ - وہ اسکالر جس نے شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کے افکار و تصانیف کا خصوصی اور گہرا مطالعہ کیا ہو۔ "سندھ یونیورسٹی کا ذخیرۂ کتب ناکافی ثابت ہوا تو اس میں بھی دو اقبالیوں نے امداد کی۔"      ( ١٩٥٥ء، اقبالیات کا تنقیدی جائزہ، گزارش، )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم علم 'اقبال' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے 'اقبالی' بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے "ماہنامہ حسن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اقرار و اعتراف پر مشتمل (تقریر یا تحریر)۔ "اقبالی اظہار قلم بند ہونے کے بعد۔"      ( ١٩٢٤ء، قوانین پولیس حیدراآباد، ٢٥٣ ) ٣ - وہ اسکالر جس نے شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کے افکار و تصانیف کا خصوصی اور گہرا مطالعہ کیا ہو۔ "سندھ یونیورسٹی کا ذخیرۂ کتب ناکافی ثابت ہوا تو اس میں بھی دو اقبالیوں نے امداد کی۔"      ( ١٩٥٥ء، اقبالیات کا تنقیدی جائزہ، گزارش، )

اصل لفظ: قبل