اقلیت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ مقابلتا ]  تعدادی کی کمی، شمار میں کم ہونا۔ "مولانا کے ہمدردوں اور معاونوں کی جماعت اقلیت میں آگئ۔"      ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٢٣٩ ) ٢ - [ سیاست ]  کم تعداد کا گروہ یا فرقہ۔ "ان تمام امور میں جو مسلمانوں سے بحیثیت ایک کل ہند اقلیت کے متعلق ہیں وہ لیگ کے فیصلے کے پابند ہوں گے۔"      ( ١٩٣٦ء، مکاتیب اقبال، ٧:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'اَقْل' کے ساتھ 'یّ' بطور لاحقۂ نسبت اور 'ت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٣٦ء، کو "مکاتیب اقبال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ مقابلتا ]  تعدادی کی کمی، شمار میں کم ہونا۔ "مولانا کے ہمدردوں اور معاونوں کی جماعت اقلیت میں آگئ۔"      ( ١٩٤٣ء، حیات شبلی، ٢٣٩ ) ٢ - [ سیاست ]  کم تعداد کا گروہ یا فرقہ۔ "ان تمام امور میں جو مسلمانوں سے بحیثیت ایک کل ہند اقلیت کے متعلق ہیں وہ لیگ کے فیصلے کے پابند ہوں گے۔"      ( ١٩٣٦ء، مکاتیب اقبال، ٧:٢ )

اصل لفظ: قلل
جنس: مؤنث