الامان

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - [ فجائیہ ]  خدا کی پناہ، خدا محفوظ رکھے (مصیبت، آفت یا بیزاری کے موقع پر)؛ مجھے پناہ چاہیے یا مجھے پناہ دو (اکثر مدمقابل سے جنگ موقع پر)۔  آنکھ اس کی جو فتنہ بار اٹھی ہر نظر الاماں پکار اٹھی      ( ١٩٣٩ء، کلیات حسرت، ٢٧٤ )

اشتقاق

اصلاً عربی ترکیب ہے۔ عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'امان' سے پہلے عربی حرف فجائیہ 'ال' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٦٩ کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث