التجا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - درخواست، گذارش، التماس، استدعا۔  بتوں سے کیا سمجھ کے التجا اے آرزو کرتے جو کچھ اپنی نہیں کہتے وہ کس کے سننے والے ہیں      ( ١٩٥١ء، آرزو، ساز حیات، ٢٦ ) ٢ - منت سماجت، خوشامد۔ "معصومن کی التجا دکھے ہوئے دل کی آہ تھی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٠٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - منت سماجت، خوشامد۔ "معصومن کی التجا دکھے ہوئے دل کی آہ تھی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٠٩ )

اصل لفظ: لجء
جنس: مؤنث