التزام

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خود عائد کردہ شرط یا پابندی، لازم قرار دے لینا۔ "ہر روز التزام کے ساتھ گھنٹے آدھ گھنٹے . باہر پھرنا ضرور چاہیے۔"      ( ١٩٠٨ء، مقالات حالی، ٤١٤:٢ ) ٢ - دو امور میں باہم لزوم کی نسبت؛ ایک دوسرے کے لیے لازم ہونا۔ "دلالت کے واسطے معنی موضوع لہ اور معنی مدلول میں التزام کا ہونا ضروری ہے۔"    ( ١٨٧١ء، مبادی الحکمۃ، ١٦ ) ٣ - دوباتوں کا باہم ربط ووصل۔ "التزام کلام میں سہو و خطا نظر آوے تو اسی وقت لطف فرما کے اصلاح دیں۔"    ( ١٨٣٦ء، قصۂ گل و صنوبر، ٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٣٦ء کو "قصۂ گل و صنوبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خود عائد کردہ شرط یا پابندی، لازم قرار دے لینا۔ "ہر روز التزام کے ساتھ گھنٹے آدھ گھنٹے . باہر پھرنا ضرور چاہیے۔"      ( ١٩٠٨ء، مقالات حالی، ٤١٤:٢ ) ٢ - دو امور میں باہم لزوم کی نسبت؛ ایک دوسرے کے لیے لازم ہونا۔ "دلالت کے واسطے معنی موضوع لہ اور معنی مدلول میں التزام کا ہونا ضروری ہے۔"    ( ١٨٧١ء، مبادی الحکمۃ، ١٦ ) ٣ - دوباتوں کا باہم ربط ووصل۔ "التزام کلام میں سہو و خطا نظر آوے تو اسی وقت لطف فرما کے اصلاح دیں۔"    ( ١٨٣٦ء، قصۂ گل و صنوبر، ٤ )

اصل لفظ: لزم
جنس: مذکر