الجھانا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - دھاگے وغیرہ کے تاروں کا ایک دوسرے میں لپٹ جانا، سلجھنا کی ضد، الجھنا کا تعدیہ۔ "اپنی طبیعت کو الجھاؤ نہیں میری جان اصفیہ ہر وقت تمہاری ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، حرف آشنا، ٧٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اردو مصدر لازم 'الجھنا' کے ساتھ اردو قواعد کے تحت علامت مصدر سے پہلے 'الف زائد' لگا کر تعدیہ بنایا گیا ہے اردو میں بطور فعل لازم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٠٩ء کو "دیوان جرات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھاگے وغیرہ کے تاروں کا ایک دوسرے میں لپٹ جانا، سلجھنا کی ضد، الجھنا کا تعدیہ۔ "اپنی طبیعت کو الجھاؤ نہیں میری جان اصفیہ ہر وقت تمہاری ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، حرف آشنا، ٧٢ )

اصل لفظ: اُلَجھنا