الحسیب

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - [ لفظا ]  کافی، حساب لینے والا، (مراداً) خدائے تعالٰی کا ایک نام۔ "وہ الحسیب ہے یعنی حساب لینے والا اور کفایت کرنے والا ہر حال میں۔"      ( ١٩٥٦ء، مشکوٰۃ شریف (ترجمہ)، ٥٣٩ )

اشتقاق

اصلاً عربی ترکیب ہے۔ عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'حسیب' سے پہلے عربی حرف تخصیص'ال' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٥٦ء کو "مشکوٰۃ شریف (ترجمہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ لفظا ]  کافی، حساب لینے والا، (مراداً) خدائے تعالٰی کا ایک نام۔ "وہ الحسیب ہے یعنی حساب لینے والا اور کفایت کرنے والا ہر حال میں۔"      ( ١٩٥٦ء، مشکوٰۃ شریف (ترجمہ)، ٥٣٩ )

جنس: مذکر