الف
معنی
١ - اللہ کا مخفف جو عموماً خطوں یا نسخوں یا دستاویزوں کے شروع میں لکھا جاتا ہے (بیشتر اس طرح: ا)۔ ہوتی نہ یاد زلف جو خط شکستہ میں لکھتے الف خطوں کی نہ پیشانیوں میں ہم ( ١٨٥٤ء، ذوق، دیوان، ١٢٢ ) ٢ - سیدھی کھڑی لکیر یا خط وغیرہ۔ "نشان کی شکل دو الفوں کی ہوتی ہے۔" ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجم)، ٣٧٥:١ ) ٣ - چھڑی وغیرہ کی مار کا نشان، بٹ۔ معلم نے چھڑیاں لگائیں کہ چھریاں الف دیکھیو اس تن نازنیں کے ( ١٨٢٤ء، مصحفی، کلیات، ٤٠١:٢ ) ٤ - عنوانات یا اوراق وغیرہ کی ترتیب کا نمبرا۔ "خاکہ الف میں نعل سازی کی ساری ایڑی سے شو تک یکساں موٹائی کی ہے۔" ( ١٩٠٥ء، دستورالعمل نعلبندی اسپاں، ١٠٢ ) ٥ - مرد مجرد۔ (مطلع العلوم (ترجمہ) ، 220)۔ ٦ - (ریاضی وغیرہ) مفروضہ شخص شے مقدار یا عدد وغیرہ۔ بے راہ روی کا ذمہ دار انجینئر نہیں بلکہ کوئی اور مثلا الف ہے۔" ( ١٩٣٥ء، بھرے بازار میں، ١٨٤ ) ٧ - سیدھا، راست۔ ظاہر ہے قد سے عشق شہنشاہ لو کشف ایمان کا نون بن گیا قامت کا اب الف ( ١٩٤٧ء، مراثی، نسیم (قلمی نسخہ)، ٥٣:٣ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - سیدھی کھڑی لکیر یا خط وغیرہ۔ "نشان کی شکل دو الفوں کی ہوتی ہے۔" ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجم)، ٣٧٥:١ ) ٤ - عنوانات یا اوراق وغیرہ کی ترتیب کا نمبرا۔ "خاکہ الف میں نعل سازی کی ساری ایڑی سے شو تک یکساں موٹائی کی ہے۔" ( ١٩٠٥ء، دستورالعمل نعلبندی اسپاں، ١٠٢ ) ٦ - (ریاضی وغیرہ) مفروضہ شخص شے مقدار یا عدد وغیرہ۔ بے راہ روی کا ذمہ دار انجینئر نہیں بلکہ کوئی اور مثلا الف ہے۔" ( ١٩٣٥ء، بھرے بازار میں، ١٨٤ )