الفت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - چاہت، انس، محبت۔  خدا محفوظ رکھے الفت مژگان خوہاں سے یہ ذوق نشتر دل مرتے مرتے کم نہیں ہوتا      ( ١٩٢١ء، کلیات اکبر، ٥٨:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلایث مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو زبان میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: الف
جنس: مؤنث