الو

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - احمق، بیوقوف۔ "میں تو شکل دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ بس الو ہو۔"      ( ١٩٢٧ء، فرحت، مضامین، ٧٧:٤ ) ١ - ایک پرند جو انسانوں سے دور ویرانوں میں رہتا اور منحوس سمجھا جاتا اور جو عموماً دن میں سوتا اور رات میں ہوکتا اور مختلف وحشتناک بولیاں بولتا ہے۔  ان سے کہتا نہیں لکھ دیجیے نامے کا جواب چپکا بیٹھا کبوتر مرا الو کی طرح      ( ١٩٢٦ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١١، ٩:٣١ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ عربی رسم الخط کے اردو میں بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور تحریراً ١٧٨٠ء کو "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - احمق، بیوقوف۔ "میں تو شکل دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ بس الو ہو۔"      ( ١٩٢٧ء، فرحت، مضامین، ٧٧:٤ )