الھڑ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - نادان، کم سن، بھولا بھالا، اناڑی، ناتجربہ کار۔ "ایسے لغات سے آج کل کے الھڑ چوپٹ ہوں گے۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض خیر آبادی، نشر ریاض، ١٤٨ ) ٢ - بے پرواہ، جس کے مزاج میں لایا ابالی پن ہو۔ "مرید اور طالب علم الھڑ ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، مضامین، ١٤٩ ) ٣ - سواری کا وہ جانور جس کے دانت نہ نکلے ہوں، اکھنڈ، ناکند (خصوصاً گھوڑے کا بچہ)۔ "تم نے کمال خوب دکھایا اور ایک الھڑ بچھیرے پر سوار ہوئے۔"      ( ١٩٣٦ء، قدیم ہنر و ہنر مندان اودھ، ١٧٨ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٧٢ء کو "دیوان عبداللہ قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نادان، کم سن، بھولا بھالا، اناڑی، ناتجربہ کار۔ "ایسے لغات سے آج کل کے الھڑ چوپٹ ہوں گے۔"      ( ١٩٣٦ء، ریاض خیر آبادی، نشر ریاض، ١٤٨ ) ٢ - بے پرواہ، جس کے مزاج میں لایا ابالی پن ہو۔ "مرید اور طالب علم الھڑ ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، مضامین، ١٤٩ ) ٣ - سواری کا وہ جانور جس کے دانت نہ نکلے ہوں، اکھنڈ، ناکند (خصوصاً گھوڑے کا بچہ)۔ "تم نے کمال خوب دکھایا اور ایک الھڑ بچھیرے پر سوار ہوئے۔"      ( ١٩٣٦ء، قدیم ہنر و ہنر مندان اودھ، ١٧٨ )