ام

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ماں  قائل ام و اب و روح قدس ایک گروہ ہے، جسے عیسی مریم بھی کہے ہے افسق      ( ١٨١٨ء، انشا، کلیات، ٢٢٠ ) ٢ - عربی الاصل مرکبات میں (مجازاً): اصل، بنیاد، جڑ، جسے مرکزیت حاصل ہو، جس سے کوئی چیز پیدا یا شروع ہو۔ "خود کشی ایک طرح کا قتل عمد ہے یا یہ کہ یہ ام الجرائم ہے۔"    ( ١٩١٩ء، تاریخ اخلاق یورپ، ٤٢:٢ ) ٣ - کسی خاص صفت یا امتیاز کا مالک، کسی وصف میں بڑھ چڑھ کر، کوئی بات کثرت یا شدت سے رکھنے والا۔ "ام الاسرار لندن ہمارے سامنے موجود ہے۔"    ( ١٩٢٥ء، موجود لندن کے اسرار، ١٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٥٤ء کو "ریاض غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - عربی الاصل مرکبات میں (مجازاً): اصل، بنیاد، جڑ، جسے مرکزیت حاصل ہو، جس سے کوئی چیز پیدا یا شروع ہو۔ "خود کشی ایک طرح کا قتل عمد ہے یا یہ کہ یہ ام الجرائم ہے۔"    ( ١٩١٩ء، تاریخ اخلاق یورپ، ٤٢:٢ ) ٣ - کسی خاص صفت یا امتیاز کا مالک، کسی وصف میں بڑھ چڑھ کر، کوئی بات کثرت یا شدت سے رکھنے والا۔ "ام الاسرار لندن ہمارے سامنے موجود ہے۔"    ( ١٩٢٥ء، موجود لندن کے اسرار، ١٠ )

اصل لفظ: امم
جنس: مؤنث