امتیاز

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فرق، تمیز۔ "عوام اس باریک امتیاز کو سمجھ نہ سکے اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس پر بڑی لے دے ہوئی۔"      ( ١٩١٩ء، مکاتیب اقبال، ٥٢:١ ) ٢ - پہچانے کا عمل، شناخت، پہچان، پہچاننا۔  یکساں ہو تم بھی غیر بھی کیا قدر ہو میری اس کو نگاہ نہ تمہیں امتیاز ہے      ( ١٩٠٦ء، تیرو نشتر، ٨٤ ) ٣ - فوقیت، برتری، ترجیح، بڑائی، افتخار۔  اٹھ کے حرم سے اس لیے جاتے ہیں میکدے رواں ایک کو ایک پر یہاں فوق ہے امتیاز ہے      ( ١٩٢٦ء، روح رواں، ٨٩ ) ٤ - خصوصی انداز، خصوصیت۔  اک امتیاز سے پڑتی تھی یوں ہر اک ضربت غلط کتاب کی ہوتی ہے جس طرح صحت      ( ١٩٤٢ء، خمسہ متخیرہ، آرزو، ١٤:٤ ) ٥ - عزت و احترام۔  پدر کی جاہیں بڑے بھائی اکبر خوش ذات رقم کرو انہیں آداب امتیاز کے سات      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ٦٦:٣ ) ٦ - شعور، فہم، سلیقہ۔  اس آگرہ میں اب تو عنایت سواے مہر سمجھے تمہارے شعر کسے امتیاز ہے      ( ١٨٨٩ء، دیوان عنایت و سفلی، ٨١ ) ٧ - [ تعلیمات ]  امتحان کے موقع پر کسی مضمون میں 75 فی صدی یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنا، (انگریزی) ڈسٹنکشن۔ "پروفیسروں کو یقین تھا کہ اسے امتیاز ملے گا۔"      ( ١٩٣٢ء، میدان عمل، ١٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٧٢ء کو "کلیات عادل شاہ ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فرق، تمیز۔ "عوام اس باریک امتیاز کو سمجھ نہ سکے اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس پر بڑی لے دے ہوئی۔"      ( ١٩١٩ء، مکاتیب اقبال، ٥٢:١ ) ٧ - [ تعلیمات ]  امتحان کے موقع پر کسی مضمون میں 75 فی صدی یا اس سے زیادہ نمبر حاصل کرنا، (انگریزی) ڈسٹنکشن۔ "پروفیسروں کو یقین تھا کہ اسے امتیاز ملے گا۔"      ( ١٩٣٢ء، میدان عمل، ١٢٤ )

اصل لفظ: میز
جنس: مذکر