امنگ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - جوش، ولولہ، ترنگ۔ "ان کی مستعدی کو دیکھ کر دل میں امنگ پیدا ہوتی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١١٥ ) ٢ - خواہش، تمنا، آرزو، شوق۔ "کام بہت ہیں اور دل میں بڑی بڑی امنگیں ہیں لیکن سرمایا نہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، مکتوبات عبدالحق، ٢١٩ ) ٣ - نہایت خوشی، انبساط، شادمانی۔ "عید کی امنگ سب خاک میں مل گئی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٠ ) ٤ - کامیابی کا نشہ، فخر، تفاخر (جامع اللغات، 276:1)۔

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'اُد+مگن' سے 'امنگ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جوش، ولولہ، ترنگ۔ "ان کی مستعدی کو دیکھ کر دل میں امنگ پیدا ہوتی تھی۔"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر، ١١٥ ) ٢ - خواہش، تمنا، آرزو، شوق۔ "کام بہت ہیں اور دل میں بڑی بڑی امنگیں ہیں لیکن سرمایا نہیں۔"      ( ١٩٤٨ء، مکتوبات عبدالحق، ٢١٩ ) ٣ - نہایت خوشی، انبساط، شادمانی۔ "عید کی امنگ سب خاک میں مل گئی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٦٠ )

جنس: مؤنث