انبار
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - ڈھیر، ذخیرہ، تودہ، بوجھ۔ "لفظوں کے انبار سے تم نے کیا نکالا"۔ ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، حسن نظامی، ٣٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ڈھیر، ذخیرہ، تودہ، بوجھ۔ "لفظوں کے انبار سے تم نے کیا نکالا"۔ ( ١٩٢١ء، لڑائی کا گھر، حسن نظامی، ٣٣ )
جنس: مذکر