انتساب
معنی
١ - لگاؤ، تعلق، منسوب کیا جانا۔ صحیفہ عشق کا کرتا ہے جب کوئی تصنیف وہ میرے نام سے اب انتساب ہوتا ہے ( ١٩٢٣ء، انجم کدہ، ٦٠ ) ٢ - رشتہ، رشتہ داری۔ "یہ لوگ اپنے تئیں عربی النسل کہتے ہیں اور اس انتساب پر ان کو فخر ہے۔" ( ١٨٩٢ء، سفر نامہ روم و مصر و شام، ١٣٢ ) ٣ - کسی تصنیف یا تالیف کو کسی کے نام سے معنون کرنے کا عمل (انگریزی) ڈیڈیکیشن۔ "دنیا کے سب سے بڑے عملی انسان خیر البشر حضور سرور کائناتۖ کے حضور ہیں۔" ( ١٩٤٠ء، برق و باراں، سرورقِ کے بعد )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٨٠ء کو "آیات بینات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - رشتہ، رشتہ داری۔ "یہ لوگ اپنے تئیں عربی النسل کہتے ہیں اور اس انتساب پر ان کو فخر ہے۔" ( ١٨٩٢ء، سفر نامہ روم و مصر و شام، ١٣٢ ) ٣ - کسی تصنیف یا تالیف کو کسی کے نام سے معنون کرنے کا عمل (انگریزی) ڈیڈیکیشن۔ "دنیا کے سب سے بڑے عملی انسان خیر البشر حضور سرور کائناتۖ کے حضور ہیں۔" ( ١٩٤٠ء، برق و باراں، سرورقِ کے بعد )