انتہا

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - حد، نہایت۔  وہ جن کی وسعتوں کی کوئی انتہا نہیں سب سے سوا انہیں کے لیے تنگ ہے زمیں      ( ١٩٤٨ء، سرود و خروش، ٦٣ ) ٢ - اخیر، انجام۔  روتے جو آئے تھے رلا کے گئے ابتدا انتہا کو روتے ہیں      ( ١٩٣٢ء، ریاضِ رضواں، ٢٣٦:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید فیہ کے 'باب افتعال' سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے سب سے پہلے ١٥٨٢ء کو "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: نہی
جنس: مؤنث