اندرون

قسم کلام: اسم ظرف مکان ( واحد )

معنی

١ - اندر کے حصے میں، میں۔ "ہر سال تعزیہ حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بہ خلوص نیت اندرون محل . بجا لاتا تھا۔"      ( ١٧٣٢ء، کربل کتھا، ٣٧ ) ٢ - زنان خانہ۔ "اتنے میں ایک شخص آیا اور مجھے سیدھا اندرون یعنی زنان خانے میں لے گیا۔"      ( ١٨٩١ء، قصۂ حاجی بابا (ترجمہ)، حیرت، ٤٤ ) ١ - بھیتر کا حصہ، باطن۔  حنا سے بڑھ کے دورنگی کسی میں کیا ہو گی کہ اندرون تو ہے سرخ اور باہر سبز      ( شرف (نوراللغات)، ٤١٠:١ ) ٢ - دل، قلب۔  تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام چہرہ روشن، اندرون چینگیز سے تاریک تر      ( ١٩٣٨ء، ارمغان حجاز، ٢١٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اندر کے حصے میں، میں۔ "ہر سال تعزیہ حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بہ خلوص نیت اندرون محل . بجا لاتا تھا۔"      ( ١٧٣٢ء، کربل کتھا، ٣٧ ) ٢ - زنان خانہ۔ "اتنے میں ایک شخص آیا اور مجھے سیدھا اندرون یعنی زنان خانے میں لے گیا۔"      ( ١٨٩١ء، قصۂ حاجی بابا (ترجمہ)، حیرت، ٤٤ )