انصار

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - مدد کرنے والے لوگ، ساتھی، رفقا۔ "مسڑ گاندھی اور ان کے ہندو اعوان و انصار جو خلافت کے لیے اس قدر جدوجہد کر رہے ہیں تو ان کا منشا کیا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، ادبی تبصرے، عبدالحق، ١٥ ) ٢ - مدینے کے وہ مسلمان جنھوں نے ہجرت کے بعد حضرت محمد مصطفٰیۖ اور دوسرے مہاجرین مکہ کی مدد کی، مدنی اصحاب (رضوان اللہ علیہم)۔ انصار میں ایک شخص تھے جو خاص طور پر آپۖ کے لیے پانی ٹھنڈا کرکے رکھتے تھے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٣٠:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل 'ناصر' کی جمع 'انصار' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٢٣ء کو "سیرۃ النبیۖ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مدد کرنے والے لوگ، ساتھی، رفقا۔ "مسڑ گاندھی اور ان کے ہندو اعوان و انصار جو خلافت کے لیے اس قدر جدوجہد کر رہے ہیں تو ان کا منشا کیا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، ادبی تبصرے، عبدالحق، ١٥ ) ٢ - مدینے کے وہ مسلمان جنھوں نے ہجرت کے بعد حضرت محمد مصطفٰیۖ اور دوسرے مہاجرین مکہ کی مدد کی، مدنی اصحاب (رضوان اللہ علیہم)۔ انصار میں ایک شخص تھے جو خاص طور پر آپۖ کے لیے پانی ٹھنڈا کرکے رکھتے تھے۔"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٣٠:٣ )

اصل لفظ: نصر
جنس: مذکر