انگارا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - [ مجازا ]  انگارے کی طرح گرم یا لال، نہایت سرخ۔ "عید گاہ کی دیوار کے نیچے سے انہوں نے بھی اپنا اختر بختر کھول کر ایک انگارا ادّھا لڈایا۔"      ( ١٩٤٣ء، دلی کی چند عجیب ہستیاں، ١١١ ) ١ - دہکتا ہوا کوئلہ، آگ کا جلتا ہوا ٹکڑا جو چنگاری سے بڑا ہوتا ہے۔  دکھ روگ کو چاہت کے سکھ روگ بنانا ہے دہکا ہوا انگارا چھاتی سے لگانا ہے      ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ١٣٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'انگار' کے ساتھ 'الف' بطور لاحقۂ صفت و تصغیر لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ مجازا ]  انگارے کی طرح گرم یا لال، نہایت سرخ۔ "عید گاہ کی دیوار کے نیچے سے انہوں نے بھی اپنا اختر بختر کھول کر ایک انگارا ادّھا لڈایا۔"      ( ١٩٤٣ء، دلی کی چند عجیب ہستیاں، ١١١ )

اصل لفظ: اَنْگار