انگریزی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - انگریز سے منسوب، انگریزوں کا، انگلستان کا۔  کنارہ کیجیے گا صحبت رندان کالج سے غضب ہی ڈھائنیگے اے شیے یہ پرزے ہیں انگریزی      ( ١٩١٠ء، گلکدہ، عزیز، ١٠٨ ) ١ - انگریزوں کی بولی، انگلستان کی زبان، انگلش۔ "انگریزی زبان کو ہائی اسکولوں اور کالجوں دونوں میں ایک نہایت اہم اختیاری زبان کی حیثیت دینی چاہیے۔"      ( ١٩٣٥ء، اصول تعلیم، ٣٣٠ ) ٢ - انگریزوں کی عملداری، برطانوی راج۔  نہ انگریزی میں وہ ہوا پر قبول نکالا گیا مجھ کو کرکے ملول      ( ١٨٥٩ء، حزن اختر، واجد علی شاہ، ٦٢ )

اشتقاق

پراکرت الاصل لفظ 'انگلس' کا بگاڑ 'انگریز' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٠٣ء کو "جنگ نامہ بنگی خان (اردو نامہ)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - انگریزوں کی بولی، انگلستان کی زبان، انگلش۔ "انگریزی زبان کو ہائی اسکولوں اور کالجوں دونوں میں ایک نہایت اہم اختیاری زبان کی حیثیت دینی چاہیے۔"      ( ١٩٣٥ء، اصول تعلیم، ٣٣٠ )

اصل لفظ: انگلس(Engles)
جنس: مؤنث