انیس

قسم کلام: صفت عددی ( واحد )

معنی

١ - ایک کم بیس، اٹھارہ سے ایک زیادہ، (ہندسوں میں) 19۔ "طریانوس تخت سلطنت پر بیٹھا اور انیس سال حکومت کی۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٩٠ ) ٢ - دو ممائل چیزوں میں سے ایک چیز دوسری سے کچھ کم (عموماً بیس کے ساتھ مستعمل)۔  وضع میں دلکش سجاوٹ میں نفیس حوض کوثر ان سے انیس اور نہ بیس      ( ١٨٢٨ء، مثنوی مہر و مشتری، ٢٢ )

اشتقاق

سنسکرت کے لفظ 'ان ونشت' سے 'اُنیس' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٤٢٠ء کو "شکار نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک کم بیس، اٹھارہ سے ایک زیادہ، (ہندسوں میں) 19۔ "طریانوس تخت سلطنت پر بیٹھا اور انیس سال حکومت کی۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٩٠ )

اصل لفظ: اَنَوِنشت