اوجھل

قسم کلام: اسم ظرف مکان ( واحد )

معنی

١ - پیچھے، آڑ میں، عقب میں، پردے میں۔  چھپا رہتا ہے سلطان بند گان خاص کی اوجھل اگر وہ خود نظر آئے تو پھر بندہ نما کیوں ہو      ( ١٩٦٠ء، آتش خنداں، ١٩١ ) ١ - غائب، پوشیدہ، پنہاں، چھپا ہوا، نگاہوں سے دور۔  جو سامنے اب تک آئے نہیں کیوں دھیان میں آئے جاتے ہیں آنکھوں سے ابھی تک اوجھل ہیں اور جی میں سمائے جاتے ہیں      ( ١٩٣٨ء، سریلی بانسری، ٧٠ ) ١ - جو حائل کسی چیز کو دیکھنے میں مانع ہو، اوٹ، آڑ، حجاب، پردہ۔ "پیچھے سے جا کر دیکھو تو دم کی اوجھل میں مور نظر ہی نہیں آتا۔"      ( ١٩١٠ء، آزاد، اردو کی دوسری کتاب، ٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'اگوچر' سے 'اوجھل' بنا۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو حائل کسی چیز کو دیکھنے میں مانع ہو، اوٹ، آڑ، حجاب، پردہ۔ "پیچھے سے جا کر دیکھو تو دم کی اوجھل میں مور نظر ہی نہیں آتا۔"      ( ١٩١٠ء، آزاد، اردو کی دوسری کتاب، ٨ )

اصل لفظ: اگوچر