اوسان
قسم کلام: اسم جمع ( مذکر، مؤنث - واحد )
معنی
١ - ہوش حواس (واحد اور جمع دونوں کے ساتھ مستعمل)۔ کیا خبر جلوہ گر ناز میں کیا دیکھ لیا بے خودی کی ہے چڑھائی مرے اوسانوں پر ( ١٩١٩ء، درشہوار، بے خود، ٣٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'وسن' کی جمع 'اوسان' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٨١ء کو "جنگ نامۂ سیوک" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: وسن